ابنا: چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لی ویمن نے ایران کے خلاف پابندیاں لگائے جانے سے اپنے ملک کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مذاکرات کو ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کے لئے بہترین طریقۂ کار بتایا۔ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور مغرب مذاکرات انجام دے کر خلیج فارس کے علاقہ میں امن و سلامتی کو باقی رکھیں گے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایرانی تیل کے بائيکاٹ کے امریکہ اور یورپ کے فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں یا دباؤ کا کوئي نتیجہ نہیں نکلے گا اور ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے ایرانیوں کے فیصلے پر بھی کوئي اثر نہیں پڑے گا۔چینی وزیراعظم ون جیا باؤ نے بھی کہا تھا کہ ان کا ملک ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا اور ایرانی تیل کے بائیکاٹ کی امریکہ اور یورپ کے باتوں پر وہ توجہ نہیں دےگا۔ان کا کہنا تھا کہ چین ایران سے تیل خریدنے والا اکیلا ملک نہیں ہے۔واضح ر ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی حواریوں کے اشارے پر کئے جانے والے ایران مخالف اقدامات کا مقصد ایران کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے اس کے مسلمہ حق سے محروم کرنا ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی توسیع پر پابندی کے معاہدے ، این پی ٹی ، کا رکن ہونے کی بنا پر پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک دسترسی کا حق حاصل ہے۔........
/169